بھارت نے پاکستانی شہریوں سمیت منتخب غیر ملکیوں کے لیے پاسپورٹ اور ویزا قوانین میں نرمی کر دی
بھارت نے بعض پاکستانی شہریوں سمیت کئی اقسام کے غیر ملکیوں کے لیے پاسپورٹ اور ویزا کی شرائط میں نرمی کر دی ہے، جس کا نوٹیفکیشن وزارت داخلہ نے گزٹ میں شائع کر دیا ہے۔

بھارت نے ملک میں رہنے والے کئی اقسام کے غیر ملکی شہریوں کے لیے پاسپورٹ اور ویزا کی شرائط میں نرمی کر دی ہے، جن میں بعض پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے امیگریشن اینڈ فارنرز (استثنیٰ) (ترمیمی) آرڈر 2026 کے ذریعے کی گئی ہیں، جو جمعرات کو گزٹ میں شائع ہوا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق نئے حکم سے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والی مذہبی اقلیتوں، سری لنکن تاملوں اور تبتی شہریوں کو بھی سہولت ملے گی۔
ترمیمی حکم کے تحت بعض پاکستانی شہریوں کو پاسپورٹ کی تجدید کی شرط سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ یہ سہولت ان پاکستانی شہریوں کے لیے ہے جو 31 دسمبر 2009 کو یا اس سے پہلے مستقل طور پر آباد ہونے کی نیت سے بھارت آئے تھے اور اپنے سفری دستاویزات کی تجدید اس لیے نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پاس پاکستان کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نہیں ہے۔
اس استثنیٰ کے لیے کئی شرائط رکھی گئی ہیں۔ درخواست گزار کو بھارت آنے سے پہلے اپنے خاندان کے وہ افراد چھوڑ کر آنا چاہیے جو بھارتی شہری ہیں، انہیں پاکستان میں شادی نہیں کرنی چاہیے، وہاں غیر منقولہ جائیداد حاصل نہیں کرنی چاہیے، ان کے خلاف پولیس یا سیکیورٹی اداروں کی کوئی منفی رپورٹ نہیں ہونی چاہیے اور انہیں پاکستان واپس نہ جانے کا عہد کرنا ہوگا۔
ترمیمی حکم میں افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی چھ مذہبی برادریوں، یعنی ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت کے پیروکاروں، جین مت کے پیروکاروں، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھی سہولت دی گئی ہے، جو مذہبی ظلم و ستم یا اس کے خوف سے فرار ہو کر 31 دسمبر 2024 کو یا اس سے پہلے بھارت آئے تھے۔ یہ استثنیٰ ان افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے جو بغیر درست سفری دستاویزات کے آئے تھے یا جن کے پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویزات کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ تاہم بھارت میں رہنے کے لیے انہیں مناسب ویزا حاصل کرنا ہوگا۔
حکم میں رجسٹرڈ سری لنکن تامل شہریوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے 9 جنوری 2015 کو یا اس سے پہلے بھارت میں پناہ لی تھی۔ اسی طرح بعض تبتی شہری جو 1959 سے 30 مئی 2003 کے درمیان کھٹمنڈو میں بھارتی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ اجازت ناموں سے بھارت آئے تھے یا بھارت نیپال سرحد پر مقررہ امیگریشن چوکیوں پر خصوصی داخلے کے اجازت ناموں سے داخل ہوئے تھے، وہ بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.