لائیکا کی فلم وائلڈووڈ ناقدین کی پسندیدہ، باکس آفس پر مشکلات برقرار
لائیکا کی اسٹاپ موشن فلم وائلڈووڈ کو ناقدین نے شاہکار قرار دیا ہے اور اسے آسکر کی دوڑ میں شامل کیا جا رہا ہے، لیکن 100 ملین ڈالر کے بجٹ کے مقابلے میں اس کی کمائی ابھی کم ہے۔

لاس اینجلس: لائیکا اسٹوڈیو کی نئی اسٹاپ موشن فلم وائلڈووڈ نے ناقدین کو بہت متاثر کیا ہے، لیکن باکس آفس پر اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ فلم 23 اکتوبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہوئی تھی، اور ہالووین کے موقع پر اس نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ یکم نومبر کو اس نے امریکہ میں 38 لاکھ ڈالر کمائے اور اس دن کلی فیس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی عالمی کمائی اب 35 ملین ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ اس کا بجٹ 100 ملین ڈالر بتایا جاتا ہے۔
فلم کی کہانی کولن میلائے اور کارسن ایلس کے ناول پر مبنی ہے۔ اس میں ایک نوجوان لڑکی پرو میکیل کی کہانی ہے، جو اپنے چھوٹے بھائی کو بچانے کے لیے ایک جادوئی جنگل میں داخل ہوتی ہے۔ فلم کی ہدایت کاری لائیکا کے صدر اور سی ای او ٹریوس نائٹ نے کی ہے۔ یہ فلم 132 منٹ طویل ہے، اور اسے ہاتھ سے بنائی گئی اسٹاپ موشن تکنیک سے تیار کیا گیا ہے، جس میں کئی سال کی محنت شامل ہے۔
ناقدین نے وائلڈووڈ کو شاہکار قرار دیا ہے۔ روٹن ٹومیٹوز پر اس کا اسکور 100 فیصد ہے، اور ناظرین نے اسے سنیما اسکور میں اے گریڈ دیا ہے۔ کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ لائیکا کی بہترین فلم ہے، اور اسے آسکر کی دوڑ میں ابتدائی امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ فلم کی آوازوں میں پیٹن الزبتھ لی، جیکب ٹریمبلے، کیری ملیگن، اینجلا باسٹ، ماہرشالا علی، آکوافینا، چارلی ڈے اور ٹام ویٹس شامل ہیں۔
لائیکا کی تاریخ آسکر سے جڑی ہوئی ہے۔ اسٹوڈیو کی پچھلی پانچوں فیچر فلموں کو بہترین اینیمیٹڈ فیچر کے اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا: کورالائن، پیرا نارمن، دی باکس ٹرولز، کوبو اینڈ دی ٹو اسٹرنگز اور مسنگ لنک۔ تاہم باکس آفس پر ان فلموں کو کبھی زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ وائلڈووڈ بھی اسی راہ پر ہے، کیونکہ اس کی کمائی ابھی بجٹ سے بہت کم ہے۔
باکس آفس کے اعداد بتاتے ہیں کہ فلم کو کامیاب ہونے کے لیے بجٹ سے تقریباً ڈھائی گنا کمائی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وائلڈووڈ کو تقریباً 250 ملین ڈالر کمانے ہوں گے۔ اس نے امریکہ میں تقریباً 27 ملین ڈالر اور عالمی سطح پر 32 سے 35 ملین ڈالر کمائے ہیں۔ کئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ لائیکا کی دوسری سب سے کم کمانے والی فلم بن گئی ہے۔ فلم 47 ممالک میں ریلیز ہو چکی ہے، اور کئی مارکیٹوں میں ابھی کھلنا باقی ہے۔ اس نے سویڈن میں پہلے نمبر پر ڈیبیو کیا اور برطانیہ میں 37 لاکھ ڈالر کمائے۔
اس کے باوجود فلم کے لیے امید باقی ہے۔ مضبوط جائزوں، بین الاقوامی ریلیز اور ممکنہ ایوارڈز کی دوڑ سے اس کی زندگی سینما گھروں سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ لائیکا مزید منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے، جن میں پیرانیسی اور دی نائٹ گارڈنر شامل ہیں، اور اسٹوڈیو لائیو ایکشن فلموں کی طرف بھی بڑھ رہا ہے۔
فلم 23 اکتوبر کو تیسرے نمبر پر ریلیز ہوئی تھی، اور اس نے پہلے ہفتے میں امریکہ میں تقریباً 12.3 ملین ڈالر کمائے، جو توقعات سے زیادہ تھے۔ اس وقت اندازہ لگایا گیا تھا کہ فلم 6 سے 8 ملین ڈالر کمائے گی، لیکن اس نے اس سے زیادہ کمائی کی۔ ہالووین کے ہفتے میں اس کی کمائی میں صرف 39 فیصد کمی آئی، جو کلی فیس کی 57 فیصد کمی سے بہتر تھی۔
فلم کی مرکزی آواز پیٹن الزبتھ لی نے دی ہے، جو پرو میکیل کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے ساتھ جیکب ٹریمبلے اور کیری ملیگن بھی اہم کرداروں میں ہیں۔ لائیکا اوریگون میں قائم اسٹوڈیو ہے، جو ہاتھ سے بنائی گئی اسٹاپ موشن فلموں کے لیے مشہور ہے۔ اس تکنیک میں ہر منظر کو چھوٹے ماڈلز اور پتلوں سے بنایا جاتا ہے، جس میں مہینوں اور سالوں کی محنت لگتی ہے۔ اس فلم کو بنانے میں 20 سال کی محنت شامل بتائی جاتی ہے۔
فلم کا ناول کولن میلائے نے لکھا تھا، اور اس کی تصاویر کارسن ایلس نے بنائی تھیں۔ یہ کتاب ایک سیریز کی پہلی جلد ہے، جس میں جنگل کی دنیا اور اس کے کرداروں کی کہانی ہے۔ فلم میں اسی دنیا کو بڑی اسکرین پر دکھایا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کی بصری خوبصورتی اور کہانی دونوں شاندار ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.