شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر کا پینتالیسواں ایڈیشن شروع، دنیا بھر سے ہزاروں ناشر شریک
شارجہ میں پینتالیسویں انٹرنیشنل بک فیئر کا آغاز ہو گیا۔ یہ میلہ 15 نومبر تک جاری رہے گا۔ اس میں 126 ملکوں کے 3212 ناشر شریک ہیں اور 17 لاکھ سے زیادہ کتابیں پیش کی گئی ہیں۔ عمان اس سال مہمان خصوصی ہے۔

شارجہ: شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر کا پینتالیسواں ایڈیشن بدھ چار نومبر کو ایکسپو سینٹر شارجہ میں شروع ہو گیا۔ اس میلے کا افتتاح شارجہ کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے کیا۔ میلہ پندرہ نومبر تک جاری رہے گا، اور اس کا موضوع میڈ آف اسٹوریز رکھا گیا ہے۔ اس میلے کا اہتمام شارجہ بک اتھارٹی نے کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس سال کے میلے میں ایک سو چھبیس ملکوں کے تین ہزار دو سو بارہ ناشر اور نمائش کنندگان شریک ہیں، اور سترہ لاکھ سے زیادہ عنوانات مختلف زبانوں اور موضوعات میں پیش کیے گئے ہیں۔
اس میلے میں کتابوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی، تخلیقی اور فنکارانہ سرگرمیوں کا ایک بڑا پروگرام بھی شامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق بارہ روزہ میلے میں تقریباً پندرہ سو تقریبات اور سرگرمیاں منعقد ہوں گی۔ ان میں پچیس ملکوں کے ایک سو چھ مہمان شامل ہیں، جن میں مصنفین، فنکار اور دانشور شامل ہیں۔ ان تقریبات میں مصنفین سے ملاقاتیں، کتابوں پر گفتگو، بچوں کے لیے ورکشاپس اور فنکارانہ پیشکشیں شامل ہوں گی۔ اس طرح یہ میلہ صرف کتابیں خریدنے کی جگہ نہیں ہے، بلکہ یہ علم، ادب اور ثقافت کا ایک بڑا جشن ہے، جس میں ہر عمر کے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہے۔
اس سال سلطنت عمان اس میلے میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہے۔ عمان کا وفد پچاس افراد پر مشتمل ہے، جن میں اکتالیس مصنفین اور شاعر شامل ہیں۔ عمانی پروگرام میں سولہ ثقافتی مباحثے، چھ بچوں کی ورکشاپس اور بیس فنکارانہ پیشکشیں شامل ہیں، جن میں روزانہ موسیقی اور روایتی لوک فن کی پیشکشیں بھی ہوں گی۔ اس کے علاوہ دو فنکارانہ شوز اور کھانا پکانے کے دو سیشن بھی رکھے گئے ہیں۔ عمان کی جانب سے پچیس ادارے اور سترہ عمانی ناشر بھی میلے میں شریک ہیں، اور عمانی پروگرام میں کل اٹھائیس مختلف تقریبات شامل ہیں۔ یہ پروگرام عمان کی تاریخ، ورثے، ادب، شاعری اور فنون کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک موقع ہے۔
افتتاحی تقریب میں شارجہ کے حکمران کے ساتھ شارجہ کے نائب حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن احمد القاسمی اور شارجہ بک اتھارٹی کی چیئرپرسن شیخہ بدور بنت سلطان القاسمی بھی موجود تھیں۔ افتتاح کے بعد اگلے روز نائب حکمران اور شیخہ بدور نے میلے کے مختلف پویلینز کا دورہ کیا۔ انہوں نے کئی اداروں، سرکاری محکموں اور ناشرین سے ملاقات کی، اور ان کی پیشکشوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ان کے دورے کا آغاز عمان کے پویلین سے ہوا، جہاں عمانی وفد نے انہیں اپنی شرکت اور پیش کردہ ثقافتی و ورثے کی اشاعتوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
اس سال میلے میں مراکش کے عالم ڈاکٹر سعید یقطین کو سال کی ثقافتی شخصیت کے طور پر اعزاز دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر یقطین نے عربی بیانیے اور ادبی تنقید کے شعبے میں چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک خدمات انجام دی ہیں۔ اس اعزاز کے ذریعے ان کی علمی اور ادبی خدمات کو سراہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سال کا ترجمان ایوارڈ کاتالان کے اشاعتی ادارے کاروان کو دیا گیا ہے، جس نے الف لیلہ و لیلہ کی منتخب کہانیوں کا کاتالان زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ مارگریڈا کاسٹیلس کربالیس نے کیا ہے۔ یہ ایوارڈ ترجمے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ ترجمے کے ذریعے ایک زبان اور ثقافت کی کہانیاں دوسری زبانوں کے قارئین تک پہنچتی ہیں۔
شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر دنیا کے بڑے کتاب میلوں میں شمار ہوتا ہے۔ شارجہ نے برسوں سے کتابوں اور پڑھنے کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے کام کیا ہے، اور اس میلے نے اس شعبے میں شارجہ کی شناخت کو مضبوط کیا ہے۔ ہر سال اس میلے میں دنیا بھر سے ناشر، مصنفین، مترجمین اور قارئین جمع ہوتے ہیں۔ اس سے نہ صرف کتابوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے، بلکہ اشاعت کے حقوق، ترجمے اور نئے تعاون کے معاہدے بھی طے پاتے ہیں۔ میلے سے پہلے شارجہ انٹرنیشنل پبلشرز کانفرنس بھی منعقد ہوئی، جس میں ایک ہزار چار سو تینتیس ناشر شریک ہوئے۔ یہ کانفرنس میلے سے پہلے تین روز تک جاری رہی۔
یہ میلہ پندرہ نومبر تک جاری رہے گا، اور اس دوران مزید کئی تقریبات منعقد ہوں گی۔ شارجہ آنے والے لوگ ایکسپو سینٹر شارجہ میں اس میلے کا دورہ کر سکتے ہیں۔ منتظمین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میلے میں ہر عمر کے لوگوں کے لیے سرگرمیاں رکھی گئی ہیں۔ کتابوں سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ سال کا ایک اہم موقع ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال بھی بڑی تعداد میں لوگ اس میلے میں شرکت کریں گے، جیسا کہ پچھلے برسوں میں ہوتا رہا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.