ٹرمپ: ایران امریکی منظوری کے بغیر جوہری پروگرام پر کچھ نہیں کر رہا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکی منظوری کے بغیر اپنے جوہری پروگرام پر کچھ نہیں کر رہا، جبکہ وہ اپنی قومی سلامتی ٹیم سے بھی ملے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کر رہا۔ یہ بیان انہوں نے جمعہ کے روز اس وقت دیا جب امریکہ ایران کے خلاف نئے حملوں کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات بھی کی جس میں خطے کی صورتحال اور آئندہ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے اس بیان کو واشنگٹن کے سخت موقف کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے باقی حصے کو تباہ نہیں کرنا چاہتے لیکن اگر ضرورت پڑی تو انہیں ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایک جانب سفارتی دباؤ بڑھا رہا ہے اور دوسری جانب فوجی آپشن کو بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں خطے اور دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
اسی دوران روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے سلامتی سربراہ سے ماسکو میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کو بھی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ روس اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات ہیں اور ماسکو اس تنازع میں اپنے کردار پر غور کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑی طاقتوں کی شمولیت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے بھی ایران کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر بات کی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اماراتی وزیر خارجہ نے خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا۔ متحدہ عرب امارات پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر اس تنازع کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔
ثالث ممالک کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستان اور قطر سمیت کئی ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا راستہ کھلا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد جنگ بندی کی بحالی اور مذاکرات کی میز پر واپسی ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا ہے۔
آئندہ دنوں میں امریکی انتظامیہ کے فیصلوں پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، لیکن مکمل جنگ سے گریز بھی چاہتا ہے۔ خطے کے ممالک امید کر رہے ہیں کہ سفارت کاری کو موقع ملے گا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.