اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی سفارتکاری سے متعلق تجویز منظور کر لی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی تجویز پر فعال جنگ کے دوران سفارتکاری کے کردار سے متعلق صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی تجویز پر فعال جنگ کے دوران سفارتکاری کے کردار سے متعلق ایک صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ بیان جمعرات پانچ نومبر کو منظور کیا گیا۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی اہم کامیابی ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق یہ بیان سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر دو ہزار سات سو اٹھاسی پر مبنی ہے جو جولائی دو ہزار پچیس میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب جنگ شدت اختیار کر لے تو سفارتکاری کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے بلکہ اسے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور امن کے لیے مزید طاقتور ذریعہ بننا چاہیے۔
پاکستان نے اس بیان کا ابتدائی مسودہ چودہ اکتوبر کو کونسل کے اراکین میں تقسیم کیا تھا۔ اراکین کی تجاویز کے بعد تئیس اکتوبر کو پہلا نظر ثانی شدہ مسودہ اور انتیس اکتوبر کو دوسرا نظر ثانی شدہ مسودہ پیش کیا گیا۔ تین نومبر کو تیسرا نظر ثانی شدہ مسودہ خاموشی کے طریقہ کار کے تحت رکھا گیا اور اس کے بعد اسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ پاکستان کے مستقل مندوب کی جانب سے منظور شدہ متن کی تفصیلات دفتر خارجہ کے ذریعے سامنے آئی ہیں کیونکہ سلامتی کونسل کی دستاویزات میں اس کا سرکاری متن ابھی شائع نہیں ہوا۔
بیان میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ششم کے تحت تنازعات کے پرامن حل کے عزم کی توثیق کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران بھی فریقوں کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ رابطے کے ذرائع برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ غلط فہمی کے خطرے کو کم کیا جا سکے اور مسلسل سفارتی روابط کے مواقع پیدا ہوں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ سلامتی کونسل نے خاص طور پر فعال جنگ کے دوران سفارتکاری کے کردار پر توجہ مرکوز کی ہے۔
پاکستان اس وقت سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے اور اس نے حالیہ مہینوں میں علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ تنازعات کا حل مذاکرات اور پرامن ذرائع سے نکالا جائے۔ سلامتی کونسل کے اس بیان کو اسی پالیسی کی عالمی سطح پر توثیق قرار دیا جا رہا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.