ڈبلیو ایچ او: نظر انداز شدہ بیماریوں کے خلاف بڑی پیش رفت، ڈینگی کا ریکارڈ خطرہ برقرار
عالمی ادارہ صحت کی نئی رپورٹ کے مطابق نظر انداز شدہ بیماریوں کے خلاف بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ علاج کی ضرورت والے افراد کی تعداد 2010 سے ایک تہائی کم ہو کر 1.41 ارب رہ گئی ہے۔

جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے نظر انداز شدہ اشنکٹبندیی بیماریوں کے خلاف بڑی پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کی نئی رپورٹ کے مطابق ان بیماریوں کے علاج کی ضرورت والے افراد کی تعداد 2010 سے ایک تہائی سے زیادہ کم ہو کر 2024 میں ایک ارب 41 کروڑ رہ گئی ہے۔ یہ رپورٹ 4 نومبر کو جاری کی گئی، اور اس میں 2021 سے 2030 تک کے روڈ میپ کا درمیانی جائزہ لیا گیا ہے۔
نظر انداز شدہ اشنکٹبندیی بیماریاں مختلف بیماریوں کا ایک گروپ ہے، جو زیادہ تر غریب اشنکٹبندیی علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں ڈینگی، جذام، ریبیز اور نیند کی بیماری شامل ہیں۔ یہ بیماریاں اکثر توجہ سے محروم رہتی ہیں، لیکن یہ کروڑوں لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممالک نے کم از کم ایک ایسی بیماری کو ختم کر دیا ہے، جو بڑی کامیابی ہے۔
رپورٹ میں کئی شاندار کامیابیاں درج ہیں۔ نیند کی بیماری کے کیس 1999 کے بعد سے 98 فیصد کم ہو گئے ہیں، اور یہ بیماری اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ گنی ورم کی بیماری پچھلے سال صرف 10 انسانی کیسوں تک رہ گئی، جو اب تک کی سب سے کم تعداد ہے۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ مسلسل کوششوں سے ان بیماریوں کو قابو کیا جا سکتا ہے۔
تاہم رپورٹ میں خبردار بھی کیا گیا ہے۔ ڈینگی کے کیس 2024 میں ریکارڈ 15.1 ملین تک پہنچ گئے، اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ بیماریوں پر قابو پایا جا رہا ہے، لیکن کچھ نئی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اور شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی ڈینگی جیسی بیماریوں کو پھیلانے میں مدد کر رہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے کہا ہے کہ یہ کامیابیاں بڑی ہیں، لیکن انہیں آسانی سے کھویا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زیادہ سرمایہ کاری اور تیز تر اقدام کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر توجہ کم ہوئی تو یہ بیماریاں دوبارہ پھیل سکتی ہیں۔
رپورٹ کا مقصد 2030 تک کے روڈ میپ کا جائزہ لینا ہے۔ اس روڈ میپ میں بیماریوں کو ختم کرنے، علاج تک رسائی بڑھانے اور کمزور علاقوں میں صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کے اہداف شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نظر انداز شدہ بیماریوں کے خلاف کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی صحت کی کوششیں کام کرتی ہیں، لیکن اس کے لیے مسلسل مالی مدد اور سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔
نظر انداز شدہ بیماریوں میں ڈینگی، جذام، ریبیز، نیند کی بیماری، گنی ورم، فیلاریا اور بلہارسيا جیسی بیماریاں شامل ہیں۔ یہ بیماریاں زیادہ تر ان علاقوں میں پائی جاتی ہیں جہاں صاف پانی، صفائی اور صحت کی سہولتیں کم ہیں۔ ان بیماریوں کا علاج ممکن ہے، لیکن ان پر تحقیق اور توجہ کم ملتی ہے، اسی لیے انہیں نظر انداز شدہ کہا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈینگی کے پھیلاؤ کی وجہ شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور مچھروں کے لیے موزوں ماحول ہے۔ ایڈیز مچھر ڈینگی پھیلاتا ہے، اور یہ مچھر شہری علاقوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے مچھروں پر قابو، صاف پانی اور ویکسین اہم ہیں۔ کچھ ممالک میں ڈینگی کی ویکسین بھی استعمال ہو رہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا روڈ میپ 2021 سے 2030 تک کا ہے، اور اس رپورٹ میں اس کا درمیانی جائزہ لیا گیا ہے۔ روڈ میپ کا مقصد بیماریوں کو ختم کرنا، علاج تک رسائی بڑھانا اور کمزور علاقوں میں صحت کا نظام مضبوط کرنا ہے۔ جب کوئی ملک کسی بیماری کو ختم کرتا ہے تو عالمی ادارہ صحت اس کی توثیق کرتا ہے، جس کے لیے سخت معیار پورے کرنے ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بیماریوں کے خلاف کامیابی عالمی صحت کی کوششوں کا ثبوت ہے۔ جب حکومتوں، عالمی اداروں اور مقامی کمیونٹیوں نے مل کر کام کیا تو بیماریاں کم ہوئیں۔ لیکن اس کے لیے مسلسل مالی مدد کی ضرورت ہے۔ اگر فنڈنگ کم ہوئی تو بیماریاں دوبارہ پھیل سکتی ہیں، جیسا کہ ماضی میں کئی بار ہوا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.