اعمار پراپرٹیز کا اعمار ڈویلپمنٹ کے باقی حصص خریدنے کا منصوبہ، سودا 3.43 ارب ڈالر تک
دبئی کی اعمار پراپرٹیز نے اپنی ذیلی کمپنی اعمار ڈویلپمنٹ کے باقی حصص خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ فی حصص 15 درہم کی پیشکش کے تحت یہ سودا 3.43 ارب ڈالر تک کا ہو سکتا ہے۔

دبئی کی سب سے بڑی جائیداد ساز کمپنی اعمار پراپرٹیز نے اپنی ذیلی کمپنی اعمار ڈویلپمنٹ کے باقی ماندہ حصص خریدنے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ کمپنی نے چار نومبر کو دبئی فنانشل مارکیٹ میں جمع کرائے گئے ایک بیان میں کہا کہ وہ اعمار ڈویلپمنٹ کے ان حصص کے لیے رضاکارانہ نقد پیشکش کرنا چاہتی ہے جو اس کے پاس ابھی نہیں ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ سودا 3.43 ارب ڈالر تک کا ہو سکتا ہے۔
اعمار پراپرٹیز کے پاس اعمار ڈویلپمنٹ کے 79 فیصد سے کچھ زیادہ حصص پہلے سے موجود ہیں۔ کمپنی باقی حصص کے لیے فی حصص 15 درہم ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ قیمت منگل کو مارکیٹ بند ہونے پر اعمار ڈویلپمنٹ کے حصص کی قیمت 13.90 درہم سے تقریباً 7.9 فیصد زیادہ ہے۔ اس پیشکش کی بنیاد پر اعمار ڈویلپمنٹ کی مجموعی قیمت تقریباً 60 ارب درہم یعنی 16.34 ارب ڈالر بنتی ہے۔
یہ پیشکش ابھی حتمی نہیں ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اس منصوبے کو اعمار پراپرٹیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری درکار ہے۔ بورڈ اس ہفتے اس تجویز پر غور کرے گا۔ کمپنی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ پیشکش مکمل ہونے کے بعد کیا اعمار ڈویلپمنٹ کو دبئی فنانشل مارکیٹ سے ڈی لسٹ کیا جائے گا یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سودا مکمل ہو گیا تو اعمار پراپرٹیز کو اپنی رہائشی ترقیاتی کاروبار پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا اور کمپنی کا ڈھانچہ مزید سادہ ہو جائے گا۔
اعمار ڈویلپمنٹ دبئی کے کئی بڑے رہائشی منصوبوں کی ذمہ دار ہے جن میں دبئی ہلز اسٹیٹ، اعمار ساؤتھ اور دی ویلی شامل ہیں۔ یہ کمپنی دبئی فنانشل مارکیٹ میں الگ سے لسٹڈ ہے۔ اعمار پراپرٹیز دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کی تعمیر کرنے والی کمپنی کے طور پر مشہور ہے۔
ستمبر 2026 میں اعمار پراپرٹیز نے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ وہ اپنے مختلف کاروباری شعبوں سے متعلق تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ اب اس پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اپنے کاروبار کو مضبوط اور یکجا کرنے کی سمت میں قدم اٹھا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود دبئی کی جائیداد کی مارکیٹ مضبوط بنی ہوئی ہے اور بڑی کمپنیاں طویل مدتی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
اگلے مرحلے میں سب کی نظریں اعمار پراپرٹیز کے بورڈ کے فیصلے پر ہوں گی۔ اگر بورڈ نے منظوری دے دی تو کمپنی باضابطہ پیشکش کی دستاویزات جاری کرے گی اور اقلیتی شیئر ہولڈرز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے حصص فروخت کریں یا نہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.