سعودی اتحاد کا مکہ ریجن میں ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید
سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے جمعہ کو مکہ ریجن میں ایک ڈرون تباہ کر دیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے جمعہ کی صبح سعودی عرب کے مکہ ریجن میں ایک ڈرون کو تباہ کر دیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ ڈرون کو مکہ صوبے میں روکا اور تباہ کیا گیا۔ انہوں نے اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا مادی نقصان کی تفصیل نہیں دی، اور نہ ہی یہ بتایا کہ ڈرون کہاں سے روانہ کیا گیا تھا۔
دوسری طرف یمن کے حوثی گروپ نے مکہ مکرمہ یا اس کے گرد و نواح کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کے گروپ نے جمعہ کو سعودی علاقے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ حوثیوں کا موقف ہے کہ ان کے سرحد پار حملے صرف سعودی عرب کے توانائی اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں، مقدس شہر کو نہیں۔ اس طرح اس واقعے پر دونوں فریقوں کے دعوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ مکہ ریجن میں ڈرون سے متعلق ایسا دعویٰ سامنے آیا ہو۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ حوثیوں نے اسلام کے دو مقدس ترین شہروں مکہ اور مدینہ کی طرف ڈرون روانہ کیے، جبکہ حوثی ہر بار اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔ اکتوبر کے آخر اور نومبر کے شروع میں بھی مکہ ریجن میں ڈرون تباہ کرنے کے اسی طرح کے دعوے سامنے آئے تھے، جن کی حوثیوں نے تردید کی تھی۔ اس لیے آج کے دعوے کو بھی اتحاد کے بیان کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی گزشتہ کئی ہفتوں سے بڑھ رہی ہے۔ یمن کی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان آبنائے باب المندب کے قریب لڑائی جاری ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کے کئی میزائل اور ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں مدینہ ریجن کی طرف آنے والا میزائل اور نجران کی طرف آنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔
اس کشیدگی کے علاقائی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسی ہفتے کہا تھا کہ مکہ معاہدے پر عمل کا وقت آ گیا ہے، اور ترکیہ کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو اس معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی خطے کے ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مقدس مقامات کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.