PAKISTAN & THE WORLDFRIDAY, NOVEMBER 6, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Health

خلیفہ یونیورسٹی اور سانوفی دمہ اور سی او پی ڈی پر جینومک تحقیق کے لیے شراکت دار

خلیفہ یونیورسٹی اور سانوفی نے متحدہ عرب امارات میں دمہ اور سی او پی ڈی پر جینومک تحقیق آگے بڑھانے کے لیے اسٹریٹجک تحقیقی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

خلیفہ یونیورسٹی اور سانوفی دمہ اور سی او پی ڈی پر جینومک تحقیق کے لیے شراکت دار
Photo supplied with article.

خلیفہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور عالمی دوا ساز کمپنی سانوفی نے دمہ اور دائمی رکاوٹ پھیپھڑوں کی بیماری یعنی سی او پی ڈی پر جینومک تحقیق آگے بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک تحقیقی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس شراکت داری کا اعلان چار نومبر کو کیا گیا اور اسے متحدہ عرب امارات میں سانس کی بیماریوں کے علاج میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس تعاون کے تحت جینوم وائیڈ ایسوسی ایشن اسٹڈی کی جائے گی، جس میں جینیاتی عوامل اور دمہ اور سی او پی ڈی کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا جائے گا۔ خلیفہ یونیورسٹی اپنی جینومک تحقیق کی مہارت فراہم کرے گی، جبکہ سانوفی اپنی بائیو فارماسیوٹیکل تحقیق اور ترقی کی صلاحیتوں سے اس منصوبے کو سہارا دے گی۔ دونوں اداروں کا مقصد ان بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھنا اور مریضوں کے لیے زیادہ مؤثر علاج تلاش کرنا ہے۔

اس مطالعے کو ادارہ جاتی جائزہ بورڈ کی منظوری اور محکمہ صحت ابوظہبی کی ریگولیٹری اجازت مل چکی ہے۔ تحقیقی ٹیم اماراتی جینوم پروگرام اور ملافی کے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کرے گی۔ ملافی ابوظہبی کا صحت کی معلومات کے تبادلے کا پلیٹ فارم ہے۔ تمام ڈیٹا محکمہ صحت کے محفوظ ٹرسٹڈ ریسرچ انوائرمنٹ میں رکھا جائے گا اور پرائیویسی اور سیکیورٹی کے تمام تقاضوں کی مکمل پابندی کی جائے گی۔

دمہ اور سی او پی ڈی دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں بھی یہ بیماریاں ایک بڑا صحت کا چیلنج ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جینیاتی تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کچھ افراد میں یہ بیماریاں کیوں زیادہ شدت سے ظاہر ہوتی ہیں اور مختلف مریضوں کو علاج پر مختلف ردعمل کیوں ملتا ہے۔ اس سے ذاتی نوعیت کی دوا کی جانب پیش رفت ممکن ہوگی۔

خلیفہ یونیورسٹی جینومک سائنس میں اہم کام کر چکی ہے اور سانوفی سانس کی بیماریوں کے علاج میں مہارت رکھتی ہے۔ دونوں اداروں کا یہ اشتراک تعلیمی اور صنعتی شعبے کے تعاون کی ایک عمدہ مثال ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جینومک تحقیق سے نہ صرف نئی دوائیں تیار کرنے میں مدد ملے گی بلکہ بیماری کی جلد تشخیص اور روک تھام کے طریقے بھی سامنے آئیں گے۔ اماراتی جینوم پروگرام کے ڈیٹا کی موجودگی اس تحقیق کو خاص اہمیت دیتی ہے، کیونکہ اس سے مقامی آبادی کے جینیاتی خاکے کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔

آئندہ مرحلے میں تحقیقی ٹیم ڈیٹا کے تجزیے پر کام کرے گی اور نتائج سائنسی جرائد میں شائع کیے جائیں گے۔ اگر یہ تحقیق کامیاب رہی تو متحدہ عرب امارات اور خطے کے مریضوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSخلیفہ یونیورسٹی، سانوفی، دمہ، صحت، تحقیق، متحدہ عرب امارات
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading