مائیک جانسن ریپبلکن لیڈر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان
امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد پارٹی لیڈر کے عہدے سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

امریکا کے ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بھاری شکست کے بعد پارٹی کے رہنما کے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جانسن کے ترجمان نے اس فیصلے کی تصدیق کر دی ہے۔ جانسن نے چار نومبر کو اپنے عملے کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ یہ اعلان تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے ایک روز بعد سامنے آیا جن میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
مائیک جانسن چوون برس کے ہیں اور اکتوبر دو ہزار تئیس سے ایوان نمائندگان کی قیادت کر رہے تھے۔ وہ اپنے پیشرو کیون میکارتھی کی برطرفی کے بعد ہفتوں تک جاری رہنے والے اندرونی اختلافات کے بعد ایک متفقہ امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے۔ ان کے مستعفی ہونے کے فیصلے کے بعد اب ریپبلکن پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق موجودہ ہاؤس میجورٹی لیڈر اسٹیو اسکالز اور جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جم جارڈن اس عہدے کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ دونوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حامیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایوان میں ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے اپنے ساتھیوں سے باضابطہ طور پر اپیل کی ہے کہ وہ اگلے اسپیکر کے طور پر ان کی حمایت کریں۔ ڈیموکریٹس نے اعلان کیا ہے کہ نئی اکثریت مہنگائی میں کمی اور احتساب پر توجہ مرکوز کرے گی۔ نئی کانگریس تین جنوری دو ہزار ستائیس کو حلف اٹھائے گی اور اس وقت تک ریپبلکن اکثریت اقتدار میں رہے گی۔
وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں کے ساتھ ساتھ کئی ریاستوں میں گورنر کی نشستیں بھی جیت لی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دو دہائیوں میں پہلی بار ہوا ہے کہ اپوزیشن جماعت نے وسط مدتی انتخابات میں دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کیا ہو۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے اس شکست کی ذمہ داری ایران کے ساتھ جنگ کو قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے انتخابات کے بعد اپنے رویے میں نرمی دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ کئی معاملات پر مل کر کام کر سکتے ہیں۔ تاہم ریپبلکن حلقوں میں الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے اور وائٹ ہاؤس کے عملے میں تبدیلیوں کا مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.