اوریکل نے ٹینسنٹ کے ساتھ 7 ارب ڈالر کا اے آئی چپ معاہدہ منسوخ کر دیا
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اوریکل نے ٹینسنٹ کے ساتھ 7 ارب ڈالر کا اے آئی چپ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ رائٹرز اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل نے چینی کمپنی ٹینسنٹ کے ساتھ سات ارب ڈالر کا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ جدید مصنوعی ذہانت کی چپس کی لیز سے متعلق تھا، جو ٹینسنٹ کو جنوب مشرقی ایشیا میں واقع اوریکل کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے دی جانی تھیں۔ یہ معاہدہ پانچ سال کے لیے تھا، اور اس میں تقریباً ایک لاکھ جدید اے آئی چپس شامل تھیں۔ اگر یہ معاہدہ مکمل ہوتا تو یہ ٹینسنٹ کی بیرون ملک سب سے بڑی لیز ہوتی۔
یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ خبر صرف فنانشل ٹائمز کی رپورٹ ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ اوریکل، ٹینسنٹ اور وائٹ ہاؤس نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔ اس لیے اس معاہدے کی منسوخی کو کمپنیوں کی تصدیق شدہ خبر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس خبر کو صرف اسی حد تک سمجھنا چاہیے کہ فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کی منسوخی کا تعلق امریکہ کی جانب سے چین کو جدید اے آئی چپس کی برآمد پر عائد پابندیوں سے ہے۔ امریکہ نے پچھلے برسوں میں چین کو جدید ترین چپس کی فروخت پر سخت پابندیاں لگائی ہیں، تاکہ چین کی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو محدود کیا جا سکے۔ ان پابندیوں کے تحت امریکی کمپنیوں کے لیے چینی کمپنیوں کو جدید چپس فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے، چاہے وہ چپس چین سے باہر واقع ڈیٹا سینٹرز میں ہی کیوں نہ استعمال ہوں۔
ٹینسنٹ چین کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے، اور اسے اپنے اے آئی منصوبوں کے لیے بڑی تعداد میں جدید چپس کی ضرورت ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے کمپنی اپنے عالمی کاروبار کو وسعت دینا چاہتی تھی۔ معاہدے کی منسوخی سے ٹینسنٹ کے منصوبوں میں رکاوٹ آ سکتی ہے، اور اسے متبادل ذرائع تلاش کرنے پڑ سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ میں ایک نیا موڑ ہے۔ اگر یہ معاہدہ واقعی منسوخ ہوا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدی پابندیاں اب چین سے باہر ہونے والے سودوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا اوریکل یا ٹینسنٹ اس بارے میں کوئی بیان جاری کرتے ہیں، اور کیا اس معاہدے کی جگہ کوئی متبادل انتظام کیا جاتا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.