پیٹرول سستا، قیمت میں 7 روپے 6 پیسے کمی، نئی قیمت 362 روپے فی لیٹر
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک ہفتے میں تیسری بار کمی کر دی۔ پیٹرول 7.06 روپے سستا ہو کر 362 روپے اور ڈیزل 3.71 روپے کم ہو کر 387.81 روپے فی لیٹر ہو گیا۔

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہفتے میں تیسری بار کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے 6 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 362 روپے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 71 پیسے کمی کی گئی ہے اور نئی قیمت 387 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ نئی قیمتیں جمعرات 5 نومبر سے نافذ ہو گئی ہیں۔
یہ اس ہفتے کی تیسری کمی ہے۔ پیر 3 نومبر کو پیٹرول 3 روپے 40 پیسے سستا ہو کر 374 روپے 51 پیسے اور ڈیزل 7 روپے 76 پیسے کم ہو کر 395 روپے 20 پیسے فی لیٹر ہوا تھا۔ منگل 4 نومبر کو پیٹرول میں مزید 5 روپے 45 پیسے کمی ہوئی اور قیمت 369 روپے 6 پیسے ہو گئی، جبکہ ڈیزل 3 روپے 68 پیسے کم ہو کر 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گیا تھا۔ اس طرح ایک ہفتے میں پیٹرول مجموعی طور پر 15 روپے 91 پیسے اور ڈیزل 15 روپے 15 پیسے فی لیٹر سستا ہوا ہے۔
حکومت نے 2 نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا روزانہ نظام نافذ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو اس نظام کی منظوری دی تھی۔ اس نظام کے تحت اوگرا عالمی منڈی میں پچھلے سات روز کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر روزانہ قیمتیں مقرر کرتی ہے اور انہیں اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتی ہے۔ اس سے پہلے قیمتیں ہر پندرہ روز بعد تبدیل کی جاتی تھیں، لیکن اب صارفین کو روزانہ نئی قیمتوں کی معلومات مل سکیں گی۔
قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ کر 94 ڈالر 62 سینٹ ہو گئی ہے۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران سے جنگ کے خاتمے کی امیدوں پر تیل کی قیمتوں میں ایک دن میں تقریباً 9 فیصد کمی آئی۔ عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پاکستانی صارفین تک پہنچایا جا رہا ہے۔
قیمتوں میں کمی سے موٹر سائیکل اور کار استعمال کرنے والوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو فائدہ ہوگا۔ ڈیزل سستا ہونے سے مال برداری کی لاگت کم ہو سکتی ہے، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑنے کی توقع ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کا اثر عام آدمی تک پہنچنے میں کچھ وقت لگتا ہے، اور کرایوں اور اشیا کی قیمتوں میں کمی کا انحصار اس بات پر ہے کہ تاجر اور ٹرانسپورٹر اس ریلیف کو آگے منتقل کرتے ہیں یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق پیٹرول پر عائد 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی برقرار رکھی گئی ہے۔ مقامی ریفائنریز بھی قیمتوں میں کمی کا کچھ بوجھ برداشت کر رہی ہیں، اور رپورٹس کے مطابق اس مد میں ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا بوجھ ریفائنریز پر آ رہا ہے۔ پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت مہنگائی کے دباؤ میں گھرے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔
پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اوگرا کے مطابق نئی قیمتوں کا تعین وفاقی حکومت کے منظور کردہ طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے، جس میں عالمی پلیٹس قیمتیں، پریمیم اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بھی پیٹرول کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
روزانہ قیمتوں کے نظام کے تحت اعلان کردہ قیمتیں صرف ایک دن کے لیے ہوتی ہیں، اور اگلے روز عالمی منڈی کی صورتحال کے مطابق ان میں مزید تبدیلی ہو سکتی ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اوگرا کی ویب سائٹ پر روزانہ شائع ہونے والی قیمتوں سے آگاہ رہیں۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں تو آنے والے دنوں میں مزید ریلیف کی امید کی جا سکتی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.