سعودی عرب اور شام کے درمیان دفاعی معاہدہ، شام کے لیے 403 ملین ڈالر قرضے
سعودی عرب اور شام نے دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ سعودی فنڈ برائے ترقی شام کے توانائی، رہائش، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے لیے 403 ملین ڈالر قرضے دے گا۔

ریاض: شام کے صدر احمد الشرع نے بدھ 4 نومبر کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ یہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں الشرع کا ریاض کا دوسرا دورہ تھا۔
شام کی وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کی وزارت دفاع کے درمیان تعاون کے معاہدے کو سب سے اہم قرار دیا، تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ اس کے ساتھ سعودی فنڈ برائے ترقی نے شام کی وزارت خزانہ کے ساتھ چھ معاہدوں کے تحت 403 ملین ڈالر کے قرضے دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ قرضے توانائی، رہائش، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کے لیے رعایتی شرائط پر دیے جائیں گے۔
دورے کے دوران صنعتی تعاون، زرعی تعاون اور ماحولیاتی تحفظ پر مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ شام مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے لیے بات چیت کر رہا ہے، جو اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا اور جس کے تحت ایک دستخط کنندہ پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔
اس سے پہلے الشرع 6 اکتوبر 2026 کو بھی ریاض آئے تھے اور ولی عہد سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں ان کے ساتھ شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی بھی تھے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، تعاون کے امکانات اور خطے کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ الشرع کا سعودی عرب سے تعلق نیا نہیں ہے۔ انہوں نے 2 فروری 2025 کو صدر بننے کے بعد اپنا پہلا غیر ملکی دورہ ریاض کا ہی کیا تھا اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔ یہ دورہ اس وقت ہوا تھا جب شام میں بشار الاسد کی حکومت دسمبر 2024 میں ختم ہو چکی تھی اور نیا انتظامیہ عرب اور مغربی ممالک سے تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دفاعی تعاون کے معاہدے کے بارے میں اب تک صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں ممالک کی وزارت دفاع کے درمیان طے پایا ہے۔ نہ سعودی عرب نے اور نہ شام نے اس کا متن شائع کیا ہے اور نہ اس کی شرائط بتائی گئی ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں الصفا محل میں طے پایا تھا۔ اس پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔ شام اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے بات چیت کر رہا ہے، لیکن ابھی تک اس کے شامل ہونے کا اعلان نہیں ہوا ہے اور نہ کوئی درخواست، وقت یا فیصلہ سامنے آیا ہے۔
سعودی فنڈ برائے ترقی نے شام کی وزارت خزانہ کے ساتھ چھ معاہدوں کے تحت 403 ملین ڈالر سے زیادہ کے قرضے دینے پر اتفاق کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ان منصوبوں میں صحت کی تباہ شدہ سہولتوں کی تعمیر نو اور سامان کی فراہمی کے لیے 100 ملین ڈالر، تباہ شدہ رہائش کی مرمت کے لیے 60 ملین ڈالر، شہری دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 105 ملین ڈالر، حلب کے تھرمل پاور پلانٹ کی بحالی کے لیے 90 ملین ڈالر اور دمشق اور ادلب میں پینے کے پانی کے نظام کی ترقی کے لیے 30 ملین ڈالر شامل ہیں۔ سعودی فنڈ برائے ترقی سعودی عرب کا سرکاری ادارہ ہے اور اس کا قیام 1974 میں ہوا تھا۔ ادارے کے مطابق اس نے اب تک 100 سے زیادہ ممالک میں 800 سے زیادہ منصوبوں کے لیے مالی مدد دی ہے اور ان کی مجموعی مالیت 22 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
شام کی تعمیر نو کی ضرورت بہت بڑی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق شام میں 2011 سے 2024 تک کے تنازع کے بعد تعمیر نو کی لاگت کا محتاط تخمینہ 216 ارب ڈالر ہے۔ رپورٹ کے مطابق براہ راست جسمانی نقصان 108 ارب ڈالر تھا اور تنازع سے شام کے جنگ سے پہلے کے مجموعی سرمائے کا تقریباً ایک تہائی حصہ متاثر ہوا۔ تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ 140 ارب ڈالر سے 345 ارب ڈالر کے درمیان ہے اور 216 ارب ڈالر اس کا محتاط بہترین تخمینہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم شام کی 2024 کی متوقع مجموعی ملکی پیداوار سے تقریباً دس گنا زیادہ ہے۔ حلب، ریف دمشق اور حمص سب سے زیادہ متاثرہ صوبے بتائے گئے ہیں۔ صنعت، زراعت اور ماحولیات پر مفاہمت کی یادداشتوں سے بھی یہی مقصد ظاہر ہوتا ہے کہ تعلقات صرف دفاع اور قرضوں تک محدود نہیں رہیں گے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.