شام سعودی عرب کو فوجی مشاورت اور تربیت دے رہا ہے، ذرائع
رائٹرز کو ذرائع نے بتایا کہ شام سعودی عرب کو فوجی مشاورت اور تربیت فراہم کر رہا ہے اور اس نے مملکت میں محدود تعداد میں فوجی اہلکار بھیجے ہیں۔

رائٹرز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ شام سعودی عرب کو فوجی مشاورت اور تربیت فراہم کر رہا ہے، اور اس نے مملکت میں محدود تعداد میں فوجی اہلکار بھیجے ہیں۔ یہ خبر رائٹرز کی جانب سے چھ نومبر کو شائع ہوئی، اور اس میں دو شامی فوجی ذرائع اور ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ معلومات دی گئی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق شامی مشیر اور تربیتی ٹیمیں مملکت کے اندر سعودی اور یمنی یونٹوں کو تربیت دینے میں مدد کر رہی ہیں، تاکہ ان کی جنگی صلاحیت میں بہتری لائی جا سکے۔ یہ تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں سے دفاعی مدد طلب کی ہے۔
رائٹرز کو ایک سفارت کار نے بتایا کہ شام اور سعودی عرب کے درمیان بدھ چار نومبر کو دستخط کیے گئے دفاعی تعاون کے معاہدے میں خاص طور پر مشاورتی مدد، تربیت اور مہارت کے تبادلے کا ذکر شامل ہے۔ یہ معاہدہ شامی صدر احمد الشرع کے ریاض کے دورے کے دوران طے پایا۔
صدر الشرع کا یہ دورہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ان کی دوسری ملاقات تھی، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تیزی سے بہتری کی علامت ہے۔ شام میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے دمشق اور ریاض کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی فنڈ برائے ترقی نے بھی بدھ کو شام کی وزارت خزانہ کے ساتھ چھ معاہدوں پر دستخط کیے، جن کے تحت 403 ملین ڈالر سے زائد کے رعایتی ترقیاتی قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ معاہدے فوجی تعاون سے الگ ہیں اور شام کی تعمیر نو میں مدد کے لیے ہیں۔
یہ بات واضح رہے کہ یہ خبر سرکاری اعلان نہیں ہے بلکہ ذرائع پر مبنی رپورٹنگ ہے، اس لیے اس کی تمام تفصیلات کو ذرائع کے حوالے سے ہی بیان کرنا چاہیے۔ رائٹرز کو بتایا گیا ہے کہ شام نے صرف محدود تعداد میں اہلکار بھیجے ہیں، اور اس سے زیادہ تعداد کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ پیش رفت مکہ دفاعی معاہدے کی ترکی کی جانب سے توثیق سے مختلف ہے، جس کی خبر الگ سے شائع ہوئی ہے۔ وہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہے، جبکہ یہ معاہدہ شام اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون کا ہے۔ دونوں کو آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.