جنوبی افریقہ کے بلدیاتی انتخابات میں اے این سی کو معمولی برتری، ووٹوں میں بڑی کمی
جنوبی افریقہ کے بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں حکمران جماعت اے این سی کو معمولی برتری حاصل ہے، لیکن اس کے ووٹوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

جوہانسبرگ: جنوبی افریقہ میں 4 نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں حکمران جماعت افریقی نیشنل کانگریس (اے این سی) کو معمولی برتری حاصل ہے، لیکن اس کے ووٹوں کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انتخابی کمیشن کے مطابق تقریباً 12 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد اے این سی کو تقریباً 32 فیصد ووٹ ملے ہیں، جبکہ اس کے قریب ترین حریف ڈیموکریٹک الائنس کو 31 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ گنتی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حتمی نتائج میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
کونسل فار سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی پیش گوئی کے مطابق حتمی نتائج میں بھی اے این سی کو تقریباً 32 فیصد اور ڈیموکریٹک الائنس کو 26 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔ یہ پیش گوئی 11.5 فیصد انتخابی اضلاع کے نتائج کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج میں گوٹینگ اور کوازولو ناتال جیسے گنجان آباد صوبوں کے کم اضلاع شامل ہیں، جہاں ملک کے بڑے شہر واقع ہیں، اس لیے حتمی تصویر مختلف ہو سکتی ہے۔
اے این سی نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات 2021 میں 46 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، جو 2011 میں 62 فیصد تھے۔ اس طرح پارٹی کے ووٹوں میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ رائے دہندگان نے جرائم کی بلند شرح، بدعنوانی کے اسکینڈلز اور پانی و بجلی جیسی بنیادی سہولتوں کی ناقص فراہمی پر پارٹی کو سزا دی ہے۔ انتخابات سے قبل ہی پیش گوئی کی جا رہی تھی کہ اے این سی کو قومی سطح پر نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اے این سی 1994 سے جنوبی افریقہ میں اقتدار میں ہے، جب نیلسن منڈیلا کی قیادت میں پارٹی نے نسل پرستی کے خاتمے کے بعد پہلے جمہوری انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تین دہائیوں تک پارٹی کو ملک کی سیاست میں غلبہ حاصل رہا، لیکن حالیہ برسوں میں اس کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ 2024 کے قومی انتخابات میں پارٹی پہلی بار اپنی اکثریت کھو بیٹھی تھی، جس کے بعد اسے اتحادی حکومت بنانی پڑی تھی۔
ان بلدیاتی انتخابات کے نتائج 2029 کے قومی انتخابات سے قبل سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ صدر سرل رامافوسا کی پارٹی قیادت کی مدت 2027 میں ختم ہو رہی ہے، اور نتائج سے پارٹی کے اندر جانشینی کی کشمکش پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ جن میونسپلٹیوں میں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملے گی، وہاں جماعتوں کو اتحاد بنانا ہوگا۔ نتائج کا اعلان اتوار کو متوقع ہے، اور جماعتوں کو اعلان کے بعد اتحاد بنانے کے لیے دو ہفتے کا وقت ملے گا۔
جنوبی افریقہ میں بلدیاتی انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کہ مقامی حکومتیں پانی، بجلی، صفائی اور سڑکوں جیسی روزمرہ کی سہولتوں کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ بہت سے شہروں میں ان سہولتوں کی فراہمی میں ناکامی پر ووٹروں میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں پانی کی قلت اور بجلی کی بندش روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے، اور ووٹروں نے ان مسائل کو انتخابات میں اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔
ڈیموکریٹک الائنس جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے، اور اس نے کئی بڑے شہروں میں اے این سی کو سخت مقابلہ دیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ بہتر نظم و نسق اور بدعنوانی کے خاتمے کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران دونوں جماعتوں نے ملازمتوں، جرائم پر قابو اور بنیادی سہولتوں کی بہتری کے وعدے کیے تھے۔
انتخابی کمیشن نے کہا ہے کہ گنتی کا عمل جاری ہے اور حتمی نتائج اتوار کو جاری کیے جائیں گے۔ کمیشن نے ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات پرامن طریقے سے ہوئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اے این سی کے ووٹ 32 فیصد کے قریب رہتے ہیں تو یہ پارٹی کی تاریخ میں بلدیاتی انتخابات کا بدترین نتیجہ ہوگا، اور اس سے 2029 کے انتخابات سے قبل پارٹی کے اندر اصلاحات کا مطالبہ مزید زور پکڑ سکتا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.