اسپین میں ٹرین حادثے کے متاثرین کے لیے 30 ملین یورو امداد، وزیر ٹرانسپورٹ مستعفی
اسپین کی حکومت نے اردا ٹرین حادثے کے متاثرین کے لیے 30 ملین یورو کی امداد منظور کر لی ہے، جبکہ وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

میڈرڈ: اسپین کی حکومت نے اردا کے قریب پیش آنے والے ٹرین حادثے کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے لیے 30 ملین یورو کی امدادی رقم منظور کر لی ہے۔ یہ حادثہ 28 اکتوبر کو ٹولیڈو صوبے میں اردا کے قریب میڈرڈ سے سیویل جانے والی تیز رفتار ریلوے لائن پر پیش آیا تھا۔ اس حادثے میں 69 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ کابینہ نے 3 نومبر کو اس امدادی پیکج کی منظوری دی تھی۔
حادثے میں رینفے کی تیز رفتار ٹرین اے وی ای 2080، جس میں 397 مسافر سوار تھے، نے آئریو ٹرین 6076 کے پچھلے حصے سے ٹکر ماری تھی، جس میں 147 مسافر سوار تھے۔ ٹکر کے بعد آئریو ٹرین کے پچھلے چار ڈبے پٹری سے اتر کر ڈھلان سے نیچے گر گئے تھے۔ یہ حادثہ میڈرڈ سے سیویل لائن کے 118 ویں کلومیٹر پر پیش آیا۔ تحقیقات کے مطابق ٹکر کی رفتار 160 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
امدادی پیکج کے تحت 15 ملین یورو براہ راست امداد اور 15 ملین یورو شہری ذمہ داری کے معاوضے کی پیشگی ادائیگی کے طور پر دیے جائیں گے۔ ہلاک ہونے والے ہر شخص کے اہل خانہ کو 72 ہزار 121 یورو کی ناقابل واپسی امداد ملے گی، اور وہ اسی رقم کی پیشگی ادائیگی بھی حاصل کر سکیں گے، جس سے فی ہلاکت مجموعی رقم ایک لاکھ 44 ہزار 242 یورو ہو جائے گی۔ یہ رقم جنوری میں آدموز حادثے کے بعد مقرر کی گئی رقم کے برابر ہے۔
حکام نے بتایا کہ تمام 69 ہلاک شدگان کی شناخت 2 نومبر تک مکمل کر لی گئی تھی۔ ان میں 54 اسپینی شہری اور 15 غیر ملکی شامل تھے۔ غیر ملکی ہلاک شدگان میں چار امریکی، دو آسٹریلوی، دو جاپانی اور ارجنٹائن، کینیڈا، فرانس، میکسیکو، پرتگال، تیونس اور چیک جمہوریہ سے ایک ایک شخص شامل تھا۔ حکومت نے ٹرین آپریٹرز کو 15 روز میں مسافروں کی فہرست فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حادثے کے بعد اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے منگل کی رات استعفیٰ دیا، جو حادثے کے چھ روز بعد تھا۔ پوینتے نے کہا کہ وہ دو ریل حادثوں کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ ان کے استعفے کے بعد وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ان کے نائب کارلوس کوئرپو عارضی طور پر وزارت ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ پوینتے نے 29 نومبر کو ہونے والے انتخابات سے بھی دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اسپین میں اس سال کا دوسرا مہلک ریل حادثہ ہے۔ اس سے قبل جنوری میں آدموز کے قریب پیش آنے والے حادثے میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں حادثوں میں مجموعی طور پر 115 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ 2013 کے بعد یورپ کا بدترین ٹرین حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں حادثے میڈرڈ سے سیویل جانے والی ایک ہی لائن پر پیش آئے، جس سے اس لائن کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔
حادثے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا تھا کہ کمپیوٹر کی خرابی کے باعث سگنلنگ کا نظام بند ہو گیا تھا، جس کے بعد کنٹرول روم نے ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دی تھی، جبکہ آگے ایک اور ٹرین کھڑی تھی۔ حکومت نے نئے حفاظتی اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے، جن میں سگنلنگ کی خرابی کی صورت میں رفتار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود کرنا شامل ہے۔ میڈرڈ سے سیویل لائن تاحال بند ہے اور اس کے دوبارہ کھلنے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔
اسپین کی پارلیمنٹ 5 اکتوبر سے تحلیل ہے اور ملک میں نئے انتخابات کی تیاری جاری ہے۔ اس لیے امدادی حکم نامے کی نگرانی کانگریس کی مستقل کمیٹی کے پاس ہے۔ کابینہ نے یہ اقدام شاہی حکم نامہ 32/2026 کے طور پر منظور کیا، جو سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے اگلے روز نافذ ہو گیا۔ متاثرین کے اہل خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کی ذمہ داری کا تعین جلد کیا جائے اور آئندہ ایسے حادثوں سے بچاؤ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.