یوکرین: امدادی مرکز پر روسی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی
یوکرین کے زاپوریژیا علاقے میں امدادی مرکز پر روسی بمباری میں ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ملبے تلے 33 افراد دبے ہوئے ہیں اور 59 افراد لاپتہ ہیں۔

کیف: یوکرین کے جنوب مشرقی زاپوریژیا علاقے میں امدادی مرکز پر روسی بمباری میں ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زاپوریژیا پولیس نے جمعرات کو بتایا کہ پیر کو کومیشوواخا گاؤں میں امدادی سامان تقسیم کرنے والے مرکز پر حملہ ہوا تھا، اور ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ 33 افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور ملبہ ہٹانے اور لاشوں کی شناخت کا کام جاری ہے۔ علاقائی حکام کے مطابق بدھ تک 59 افراد لاپتہ تھے۔
یوکرین کے حکام کے مطابق حملے میں نو فضائی بم استعمال کیے گئے، جن میں ایک تین ٹن وزنی ایف اے بی گلائیڈ بم بھی شامل تھا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق اس بم میں تقریباً ڈیڑھ ٹن دھماکا خیز مواد ہوتا ہے۔ بموں نے ایک سابقہ اسکول کی عمارت اور اس کے قریب واقع پناہ گاہ کو نشانہ بنایا، جہاں لوگ انسانی امداد حاصل کرنے کے لیے جمع تھے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے ایک پولیس اہلکار کے باڈی کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پہلے حملے کے بعد لوگ پناہ گاہ میں داخل ہوئے، اور پھر دوسرا دھماکا ہوا۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی افواج نے پہلے امداد لینے والے لوگوں کو نشانہ بنایا، اور پھر موقع پر پہنچنے والے امدادی کارکنوں اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔ انہوں نے اس حملے کو شہریوں کے خلاف جاری جنگ کا ایک اور المناک واقعہ قرار دیا ہے۔ زیلنسکی نے ایک بار پھر اتحادی ممالک سے فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کی اپیل کی ہے، تاکہ اس طرح کے حملوں کو روکا جا سکے۔
روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں کومیشوواخا اور دو دیگر بستیوں کے قریب یوکرینی فوجی یونٹوں کو نشانہ بنایا گیا، اور 25 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے۔ تاہم یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ عام شہری تھے جو امداد حاصل کرنے آئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق یہ حملہ اس سال شہریوں پر ہونے والے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک ہے۔
زاپوریژیا کا علاقہ جنگ کے اگلے محاذ کے قریب واقع ہے، جہاں ہزاروں شہری انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ امدادی مراکز ان لوگوں کے لیے خوراک اور بنیادی سامان کا اہم ذریعہ ہیں۔ اس حملے کے بعد امدادی کاموں میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے، اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شہری علاقوں اور امدادی مراکز پر حملوں کی مذمت کرتی رہی ہیں، اور اس واقعے پر بھی عالمی ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.