حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ، سعودی حکام نے تصدیق نہیں کی
یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بدھ کو ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ سعودی حکام نے حملے یا کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی اور پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں۔

یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بدھ چار نومبر کو کہا کہ ان کی فورسز نے ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے لیے ایک آپریشن کیا اور میزائل نے اپنے ہدف کو براہ راست نشانہ بنایا۔ حوثیوں کا یہ دعویٰ جمعرات پانچ نومبر کو خبروں میں سامنے آیا۔ تاہم سعودی حکام نے اس حملے یا ایئرپورٹ کو کسی نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی حکام کی جانب سے تصدیق نہ ہونے کے باوجود اس دعوے کے بعد ریاض میں کچھ دیر کے لیے تشویش کی فضا رہی۔ بدھ کی صبح سویرے سعودی شہری دفاع نے ریاض کے علاقے میں ممکنہ خطرے کی مختصر وارننگ جاری کی تھی جس کے بعد کچھ دیر میں ہی اعلان کر دیا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ آزاد رپورٹوں کے مطابق جزوی طور پر دوبارہ کھولے گئے ایئرپورٹ پر پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں اور ایئرپورٹ کی بندش یا کسی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار کشیدگی میں دوبارہ شدت آ گئی ہے۔ گزشتہ ماہ اکتوبر میں حوثیوں کے مہلک حملوں کے باعث ریاض کا ایئرپورٹ تقریباً دو ہفتے تک بند رہا تھا اور اسے اکتوبر کے آخر میں جزوی طور پر دوبارہ کھولا گیا تھا۔
جمعرات پانچ نومبر کو بھی خطے میں کشیدگی برقرار رہی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے جمعرات کو بحیرہ احمر کے تیل برآمد کرنے والے مرکز ینبع میں ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کی۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے بتایا کہ اس نے مقدس شہر مدینہ کی طرف داغے گئے ایک میزائل کو تباہ کر دیا ہے۔ شہری دفاع نے یمن کی سرحد سے ملحقہ جنوب مشرقی علاقے شرورہ کے لیے بھی ہنگامی وارننگ جاری کی تھی جس کے بعد اعلان کیا گیا کہ وہاں کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی عرب پر کسی حملے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔
سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک اور امریکہ کا اہم اتحادی ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے امریکہ سے لے کر یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں تک سے حوثیوں کے خلاف اپنی نئی جنگ میں دفاعی اور جارحانہ مدد مانگی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے خطے کی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.