امریکی سیاح میکسیکو اور مالدیپ چھوڑ کر اسکاٹ لینڈ، البانیہ اور جنوبی کوریا جا رہے ہیں
ایئرالو کی نئی رپورٹ کے مطابق امریکی اور کینیڈین سیاح اسکاٹ لینڈ، جنوبی کوریا اور البانیہ کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ میکسیکو اور مالدیپ کی مانگ کم ہو گئی ہے۔

شمالی امریکہ کے سیاحوں کی پسند بدل رہی ہے۔ سفری ای سم فراہم کرنے والی کمپنی ایئرالو نے 4 نومبر کو اپنی 2026 کی شمالی امریکہ سفری رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق امریکی سیاح میکسیکو اور مالدیپ کے بجائے اسکاٹ لینڈ، البانیہ اور جنوبی کوریا جا رہے ہیں۔ یہ رپورٹ 2026 کے پہلے آٹھ مہینوں میں امریکہ اور کینیڈا کے سیاحوں کی لاکھوں ای سم خریداریوں پر مبنی ہے۔
اعداد اس تبدیلی کو واضح کرتے ہیں۔ امریکہ سے اسکاٹ لینڈ کے لیے ای سم خریداری میں 49.7 فیصد، مالٹا کے لیے 31.3 فیصد اور البانیہ کے لیے 29.9 فیصد اضافہ ہوا۔ جنوبی کوریا کے لیے امریکہ سے خریداری 65.9 فیصد اور کینیڈا سے 88.1 فیصد بڑھی۔ اس کے برعکس میکسیکو کے لیے امریکی خریداری میں مجموعی طور پر 9.7 فیصد اور گرمیوں کے عروج کے موسم میں 21 فیصد کمی آئی۔ مالدیپ کے لیے امریکی خریداری میں 43.5 فیصد کمی ہوئی۔
اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ موسم اور قیمت ہے۔ یورپ اور میکسیکو میں گرمیوں میں شدید گرمی پڑی، جبکہ قیمتیں بھی بڑھ گئیں، اس لیے سیاح ٹھنڈی اور سستی جگہوں کی طرف جا رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کی مقبولیت میں خوبصورتی، طبی سیاحت اور فلاح کے سفر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جاپان امریکیوں کے لیے سب سے مقبول منزل رہا، جس میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا، لیکن اس کی رفتار گزشتہ سال کے 50 فیصد اضافے کے مقابلے میں سست ہو گئی۔ تھائی لینڈ دونوں مارکیٹوں میں ٹاپ ٹین میں شامل ہو گیا اور چین کے لیے امریکی خریداری میں 33.4 فیصد اضافہ ہوا۔
کینیڈین سیاحوں کی پسند بھی بدل رہی ہے۔ پاناما کے لیے خریداری میں 28.3 فیصد، نکاراگوا کے لیے 27.4 فیصد، ایل سلواڈور کے لیے 24.4 فیصد اور ازورس کے لیے 51.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ویتنام کے لیے خریداری 30.7 فیصد اور فلپائن کے لیے 15.5 فیصد بڑھی۔ ایئرالو کے مطابق ایشیا پیسیفک سب سے تیزی سے بڑھنے والا خطہ ہے۔ البانیہ کی مقبولیت عالمی اقتصادی فورم کے 2026 کے سیاحتی انڈیکس سے بھی ظاہر ہوتی ہے، جس میں البانیہ نے سب سے زیادہ بہتری دکھائی۔
ایئرالو 2019 میں قائم ہوئی تھی اور اب اس کے 200 سے زیادہ منزلوں میں تین کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے ایندھن بچانے والے طیارے 2027 میں کئی منزلوں کے لیے براہ راست پروازیں ممکن بنائیں گے، جس سے چھوٹے شہروں تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ سیاحوں کو اب بڑے ہوائی اڈوں سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ماہرین اس رجحان کو "کول کیشن" کہہ رہے ہیں، یعنی ٹھنڈی جگہوں کی چھٹیاں۔ لوگ اب گرمی سے بچنے کے لیے شمالی یورپ اور ایشیا کی ٹھنڈی منزلوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قیمتیں بھی اہم ہیں، کیونکہ البانیہ اور اسکاٹ لینڈ جیسی منزلیں میکسیکو اور مالدیپ کے مقابلے میں سستی پڑتی ہیں۔ یہ رجحان 2026 کے آخر اور 2027 میں مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
کینیڈین سیاحوں کی پسند میں بھی اسی طرح کی تبدیلی آئی ہے۔ پاناما کے لیے خریداری میں 28.3 فیصد، نکاراگوا کے لیے 27.4 فیصد، ایل سلواڈور کے لیے 24.4 فیصد اور ازورس کے لیے 51.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ویتنام کے لیے خریداری 30.7 فیصد اور فلپائن کے لیے 15.5 فیصد بڑھی۔ ایئرالو کے مطابق ایشیا پیسیفک سب سے تیزی سے بڑھنے والا خطہ ہے، اور جنوبی کوریا کی مقبولیت میں خوبصورتی، طبی سیاحت اور فلاح کے سفر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے ایندھن بچانے والے طیارے 2027 میں کئی منزلوں کے لیے براہ راست پروازیں ممکن بنائیں گے، جس سے چھوٹے شہروں تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔ ایئرالو 2019 میں قائم ہوئی تھی اور اب اس کے 200 سے زیادہ منزلوں میں تین کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.