موسم سرما میں جنوبی نصف کرہ کی سیر کا رجحان بڑھ گیا
شمالی نصف کرہ کے سیاح اس موسم سرما میں جنوب کی طرف جا رہے ہیں۔ ڈربن، کیپ ٹاؤن، میلبورن اور سڈنی کی بکنگ میں بڑا اضافہ ہوا ہے، جبکہ یورپ کی مانگ پیچھے رہ گئی ہے۔

سفر کی دنیا میں 2026 کے آخر میں ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ شمالی نصف کرہ کے سیاح موسم سرما کی چھٹیوں کے لیے اب یورپ کے بجائے جنوبی نصف کرہ کا رخ کر رہے ہیں۔ سفری کمپنی ای ڈریمز اوڈیجیو کے تازہ اعداد کے مطابق جنوبی نصف کرہ کی منزلوں میں دلچسپی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ ڈربن میں سیاحوں کی دلچسپی ایک سال پہلے کے مقابلے میں 80 فیصد بڑھ گئی، میلبورن میں 57 فیصد، کیپ ٹاؤن میں 55 فیصد، جوہانسبرگ میں 50 فیصد اور سڈنی میں 48 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ رجحان صرف چند شہروں تک محدود نہیں ہے۔ ریو ڈی جنیرو کی بکنگ میں 21 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برازیل آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 37 فیصد، مصر میں 20 فیصد، ایتھوپیا میں 15 فیصد اور بھوٹان میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ اقوام متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم کے مطابق 2025 میں 1.5 ارب سے زیادہ بین الاقوامی سیاحوں نے بیرون ملک سفر کیا، جس کے بعد 2026 میں نیا ریکارڈ بننے کی توقع ہے۔
اس تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں۔ جنوبی نصف کرہ میں نومبر میں موسم بہار ہوتا ہے، جب درجہ حرارت خوشگوار ہوتا ہے اور بھیڑ بھی کم ہوتی ہے۔ کیپ ٹاؤن میں نومبر میں جاکارنڈا کے درخت کھلتے ہیں اور درجہ حرارت 65 سے 75 ڈگری فارن ہائیٹ کے درمیان رہتا ہے، جو ٹیبل ماؤنٹین پر چڑھنے، اسٹیلن بوش کے انگوروں کے باغ دیکھنے اور بولڈرز بیچ پر پینگوئن دیکھنے کے لیے بہترین موسم ہے۔ ہوٹلوں کی قیمتیں بھی عروج کے موسم سے کم رہتی ہیں۔
سفری مشیروں کے ذریعے سفر بک کروانے والی کمپنی اوانتی ڈیسٹینیشنز کے مطابق اب آزاد سیاحوں کی موسم سرما کی بکنگ میں 60 فیصد غیر یورپی منزلیں ہیں۔ آسٹریلیا اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد نیوزی لینڈ، تھائی لینڈ، کوسٹا ریکا اور ارجنٹائن ہیں۔ میلبورن اور سڈنی میں موسم گرما شروع ہو رہا ہے، جبکہ چیانگ مائی میں نومبر میں خشک موسم شروع ہوتا ہے اور درجہ حرارت 80 ڈگری کے آس پاس رہتا ہے۔ پیٹاگونیا میں موسم بہار آتا ہے، جہاں دن کا درجہ حرارت 60 ڈگری کے آس پاس رہتا ہے اور ٹریکنگ کے لیے بہترین حالات ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو بڑھایا ہے۔ ای ڈریمز کے عالمی سروے کے مطابق 39 فیصد سیاحوں نے سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر کوئی نئی جگہ دیکھی ہے، اور 31 فیصد نے چھپی ہوئی اور کم معروف جگہوں کو سب سے بڑی کشش قرار دیا۔ پوڈگوریتسا میں دلچسپی 99 فیصد اور پنٹا کانا میں 45 فیصد بڑھی ہے۔ نومبر میں بین الاقوامی پروازوں کی قیمتیں بھی مناسب ہوتی ہیں، کیونکہ ایئر لائنز تھینکس گیونگ کے دوران نشستیں بھرنے کے لیے رعایت دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ سیاحوں کی ترجیحات میں مستقل تبدیلی ہے۔ لوگ اب بھیڑ والی مشہور جگہوں کے بجائے نئی اور مختلف منزلیں تلاش کر رہے ہیں، جہاں موسم اچھا ہو، قیمتیں مناسب ہوں اور تجربہ منفرد ہو۔ جنوبی نصف کرہ کی منزلیں ان تینوں باتوں پر پوری اترتی ہیں، اس لیے اگلے موسم سرما میں ان کی مانگ مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
قیمت کے لحاظ سے نومبر میں کچھ منزلیں خاص طور پر فائدہ مند ہیں۔ آسٹریلیا کے سیاحوں کے لیے بالی سب سے زیادہ فائدہ مند منزل ہے، جہاں ایک آسٹریلوی ڈالر کے بدلے 12,694 انڈونیشی روپے ملتے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 17 فیصد زیادہ ہے۔ وہاں مہنگائی صرف 3.2 فیصد رہی، اس لیے سیاحوں کی رقم تقریباً 13 فیصد زیادہ چلتی ہے۔ بالی کا سیاحتی ٹیکس اب تقریباً 12 آسٹریلوی ڈالر ہے، جو گزشتہ سال 14 ڈالر تھا۔ تائیوان دوسرے نمبر پر ہے، جہاں ڈالر آٹھ سال کی بلند ترین سطح پر ہے، جبکہ بھارت اور جاپان میں بھی سیاحوں کو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.