ڈبلیو ایچ او: موسمیاتی اقدامات سے ہر سال 16 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں
عالمی ادارہ صحت کی نئی رپورٹ کے مطابق چھ موسمیاتی اور صحت کے اقدامات سے ہر سال 16 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور کھربوں ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

جنیوا: عالمی ادارہ صحت کی نئی رپورٹ کے مطابق چھ موسمیاتی اور صحت کے اقدامات سے ہر سال 16 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ یہ رپورٹ 4 نومبر کو جاری کی گئی، اور اس کا نام گلوبل بینیفٹس اینڈ کاسٹس آف پرائیورٹائزڈ ایکشنز آن کلائمیٹ چینج اینڈ ہیلتھ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات سے 16.7 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بھی بچا جا سکتا ہے، جو عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا تقریباً 31 فیصد ہے۔ یہ رپورٹ کوپ 31 موسمیاتی کانفرنس سے قبل جاری کی گئی ہے، جو 9 سے 20 نومبر تک ترکی کے شہر انطالیہ میں ہوگی۔
چھ اقدامات میں گرمی سے بچاؤ کے انتباہی نظام، موسمیاتی تبدیلی کے مطابق پینے کے پانی کی خدمات، بنیادی صفائی، حفظان صحت اور ہاتھ دھونے کی سہولتیں، گھر میں صاف ایندھن اور جیواشم ایندھن کی قیمتوں کی موثر پالیسی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کو عالمی سطح پر بڑھانے سے ہر سال 16 لاکھ اموات کو روکا جا سکتا ہے، جو ہر 40 میں سے ایک موت کے برابر ہے۔
سب سے بڑا فائدہ جیواشم ایندھن کی قیمتوں کی پالیسی سے ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ہر سال 12 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں، جو کل بچائی جانے والی جانوں کا 77 فیصد ہے۔ اس سے حکومتوں کو ہر سال 5.4 کھرب ڈالر کی اضافی آمدنی بھی مل سکتی ہے۔ اس پالیسی میں جیواشم ایندھن کی غیر موثر سبسڈی ختم کرنا اور کوئلے، تیل اور گیس پر ان کے آلودگی اور صحت کے نقصان کے مطابق ٹیکس لگانا شامل ہے۔
دیگر پانچ اقدامات سے بھی بڑے فوائد ہوں گے۔ گرمی سے بچاؤ کے انتباہی نظام ہر سال تقریباً ایک لاکھ جانیں بچا سکتے ہیں، کیونکہ شدید گرمی سے ہر سال تقریباً 489,000 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ ہر ایک ڈالر کی سرمایہ کاری پر 835 ڈالر کا فائدہ بتایا گیا ہے۔ پانی، صفائی اور ہاتھ دھونے کی سہولتیں اسہال اور نمونیا سے ہر سال تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار جانیں بچا سکتی ہیں۔ گھر میں صاف ایندھن کا استعمال بھی اہم ہے، کیونکہ گھر کی ہوا کی آلودگی سے 2021 میں 29 لاکھ اموات ہوئیں، جن میں پانچ سال سے کم عمر کے 309,000 سے زیادہ بچے شامل تھے۔
معاشی فوائد بھی بہت بڑے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات سے ہر سال 3.9 کھرب ڈالر کے معاشی فوائد اور 5.4 کھرب ڈالر کے مالی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ جیواشم ایندھن کی قیمتوں کے علاوہ پانچ اقدامات پر ہر سال تقریباً 35 ارب ڈالر خرچ ہوں گے، اور ہر ڈالر پر 24 ڈالر کا فائدہ ملے گا۔ یہ رپورٹ 550 سے زیادہ صفحات اور 22 ضمیموں پر مشتمل ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے کہا ہے کہ موسمیاتی بحران صحت کا بحران بھی ہے، لیکن اس کے زیادہ تر اثرات کو موجودہ اور سستے حل سے روکا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ تخمینے ماڈل پر مبنی ہیں اور 168 ممالک میں مکمل عمل درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کو موسمیاتی پالیسی کا مرکز بنانا ضروری ہے۔
کوپ 31 کانفرنس 9 سے 20 نومبر تک ترکی کے شہر انطالیہ میں ہوگی، جہاں دنیا بھر کی حکومتیں اپنے موسمیاتی وعدے پیش کریں گی۔ عالمی ادارہ صحت نے یہ رپورٹ اسی کانفرنس سے قبل جاری کی ہے، تاکہ حکومتیں صحت کو اپنی موسمیاتی پالیسی کا حصہ بنائیں۔ رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر فرینک پیگا ہیں۔
گرمی سے بچاؤ کے نظام ان 57 ممالک میں بنائے جانے ہیں جہاں ابھی ایسے نظام نہیں ہیں۔ ان نظاموں سے اسپتالوں کو تیار رکھا جاتا ہے، ٹھنڈی جگہیں فراہم کی جاتی ہیں اور کمزور افراد تک مدد پہنچائی جاتی ہے۔ پانی، صفائی اور ہاتھ دھونے کی سہولتیں سیلاب اور خشک سالی کے دوران بھی کام کرتی رہیں گی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان اقدامات کے فوائد صرف صحت تک محدود نہیں ہیں۔ صاف ہوا، صاف پانی اور بہتر صفائی سے معیشت کو بھی فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ بیمار افراد کم ہوتے ہیں اور کام کی پیداوار بڑھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صحت کو مرکز میں رکھنا ضروری ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.