ڈبلیو ایچ او نے ایبولا کی دو نئی ویکسینز کے ٹرائلز کی منظوری دے دی
عالمی ادارہ صحت نے کانگو میں جاری ایبولا ٹرائلز میں بنڈیبوگیو قسم کے لیے دو نئی ویکسینز شامل کرنے کی سفارش کر دی۔ یہ پہلی ویکسینز ہیں جو خاص طور پر اس قسم کے لیے تیار کی گئی ہیں۔

جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے ایبولا کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کانگو میں جاری ٹرائلز میں دو نئی ویکسینز شامل کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ یہ ویکسینز ایبولا وائرس کی بنڈیبوگیو قسم کے لیے تیار کی گئی ہیں، اور یہ پہلی ویکسینز ہیں جو خاص طور پر اس قسم کے لیے بنائی گئی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کے گروپوں نے سفارش کی ہے کہ ان دو امیدوار ویکسینز کو کانگو میں جاری ٹرائلز میں شامل کیا جائے، تاکہ ان کی افادیت اور حفاظت کا جائزہ لیا جا سکے۔
پہلی ویکسین کا نام چیڈ آکس ون بی ڈی بی وی ہے، جسے آکسفورڈ یونیورسٹی اور سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے تیار کیا ہے۔ دوسری ویکسین موڈرنا کی ایم آر این اے 1469 ہے۔ دونوں ویکسینز کو بنڈیبوگیو قسم کے خلاف خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو ایبولا کی ایک الگ قسم ہے۔ اس سے پہلے موجود ویکسینز بنیادی طور پر ایبولا کی زائر قسم کے لیے تیار کی گئی تھیں، اس لیے بنڈیبوگیو کے خلاف ان کی افادیت محدود تھی۔ نئی ویکسینز سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس خلا کو پر کریں گی۔
یہاں الفاظ کا درست استعمال ضروری ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے ان ویکسینز کی منظوری نہیں دی، بلکہ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ انہیں جاری ٹرائلز میں شامل کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسینز ابھی تجرباتی مرحلے میں ہیں، اور ان کے نتائج 2027 کے اوائل میں آنے کی توقع ہے۔ تب ہی یہ معلوم ہو سکے گا کہ ویکسینز کتنی مؤثر اور محفوظ ہیں۔ اس عمل میں کئی مراحل باقی ہیں، اور منظوری سے پہلے سخت جانچ ضروری ہے۔
کانگو میں ایبولا کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ افریقہ سی ڈی سی کے مطابق اب تک 10,444 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں اور 5,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار وبا کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ مریضوں کی جلد تشخیص، رابطوں کا پتہ لگانا اور محفوظ تدفین جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بنڈیبوگیو کے لیے مخصوص ویکسینز کی تیاری ایک بڑی سائنسی کامیابی ہے۔ اگر ٹرائلز کامیاب رہے تو مستقبل میں اس قسم کے پھیلاؤ کو روکنا آسان ہو جائے گا۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ وہ کانگو کی حکومت اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا، تاکہ وبا پر قابو پایا جا سکے اور متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.